بنگلورو۔یکم مارچ(ایس او نیوز) ریاستی وزیر صحت کے آر رمیش کمار نے محکمۂ انکم ٹیکس کی طرف سے ضبط کی گئی ڈائری کے مشمولات کو سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے ظاہر کئے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ یڈیورپا کوواضح کرنا چاہئے کہ وہ محکمۂ انکم ٹیکس کے کوئی افسر ہیں یا پھر کس اعتبار سے انہوں نے ڈائری کے مشمولات منظر عام پر لائے۔ اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محکمۂ انکم ٹیکس اگر باضابطہ اپنے طور پر ایسی کوئی ڈائری ضبط کی ہے تو اس کے مشمولات منظر عام پر لائے ، محکمہ کی طرف سے اگر یہ تفصیلات ظاہر ہوئیں تو ان تفصیلات میں جن لوگوں کے نام ہیں انہیں استعفیٰ دیدینا چاہئے، بصورت دیگر یڈیورپا اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی بیان بازی کے آگے یہ حکومت یا اس کا کوئی وزیر گھٹنے ٹیکنے والا نہیں ہے۔ کابینہ اجلاس سے قبل اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈائری اگر ضبط ہوئی ہے تو اسے اپنے پاس محفوظ رکھنے کی ذمہ داری محکمۂ انکم ٹیکس کی ہے، ڈائری کے جو مشمولات منظر عام پر آئے ہیں ، اگر محکمہ کی ضبط شدہ ڈائری میں وہ شامل ہیں تو محکمۂ انکم ٹیکس اس کی تصدیق کرے ، تصدیق کی صورت میں محکمہ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ان مشمولات کو غیر قانونی طریقے سے کس نے باہر لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ اس ڈائری میں ان کے نام کا تذکرہ بھی کیاجارہا ہے، محکمۂ انکم ٹیکس اگر گووند راجو کے گھر پر مارے گئے چھاپے کی تمام تفصیلات کے ساتھ ڈائری بھی منظر عام پر لائے تو وہ اس الزام کو تسلیم کرتے ہوئے تحقیقات کا سامنا کریں گے اور اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بہت جلد وہ خود وزیراعلیٰ سدرامیا سے مطالبہ کریں گے کہ محکمۂ انکم ٹیکس کے ذریعہ اس ڈائری کی تصدیق کروائیں اگر ڈائری کے مشمولات کی تحقیقات کے ذریعہ تصدیق ہوگئی تو اس میں جن لوگوں نے نام ہیں انہیں وزارت سے بے دخل کردیا جائے، ڈائری میں اگر ان کا نام ہے تو وہ خود بھی وزارت سے ہٹنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے چندہ اکھٹا کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔کوئی اگر یہ کہے کہ بی جے پی چندے کے بغیر ملک کے اقتدار تک پہنچ گئی تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے مختلف مالی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس میں اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو کانگریس جانچ کیلئے تیار ہے، لیکن محض ایک فرضی ڈائری کو بنیاد بناکر اگر بی جے پی ریاستی حکومت کی کردار کشی پر اتر آئے تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔